مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کے روز پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات میں خطے کے امن و استحکام کے لیے پاکستان اور اس کی حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکام ہمارے بھائی ہیں اور ایرانی قوم ان سے دلی محبت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اور اتحاد کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ اسلامی ممالک کو باہمی تعاون کے ذریعے نہ صرف اپنی بلکہ پوری مسلم دنیا کی صورتحال بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ان کا پختہ یقین ہے کہ مسلم دنیا کے اتحاد اور یکجہتی کو عملی اقدامات کے ذریعے مضبوط کیا جانا چاہیے اور اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی، سماجی، سیاسی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے عوام کے درمیان روابط میں اضافہ ہی عملی اتحاد کو مضبوط بنانے اور اختلافات و تنازعات کے خاتمے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے عملی طور پر بین الاقوامی قانونی اصولوں کی پاسداری ثابت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران صرف اپنے عوام کے قانونی اور جائز حقوق کے حصول کا خواہاں ہے، تاہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ماضی کے تجربات اور وعدہ خلافیوں کی تاریخ ایران کو انتہائی احتیاط برتنے پر مجبور کرتی ہے۔
امریکہ اس تنازع میں کامیاب نہیں ہوگا
صدر پزشکیان نے کہا کہ جنگ کبھی بھی کسی کے مفاد میں نہیں رہی اور امریکہ اس تنازع میں کامیاب نہیں ہوگا بلکہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کو سنگین نقصان اٹھانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں جنگ اور کشیدگی کے ذریعے صرف اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ کی بار بار وعدہ خلافیوں، مذاکرات کے دوران حملوں اور ایرانی عہدیداروں کی ٹارگٹ کلنگ کے باعث ایرانی عوام میں واشنگٹن پر شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات کے باوجود ایران پاکستان سمیت دوست ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر مذاکرات کے راستے پر گامزن ہے، تاہم تہران کا بنیادی مقصد صرف ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ ہے۔
اسرائیل مسلمانوں کے درمیان اختلافات چاہتا ہے
اس موقع پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایرانی صدر سے دوبارہ ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم اور صدر کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ جاری مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
جنرل عاصم منیر نے ایرانی صدر کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسرائیل خطے میں مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور تنازعات میں اپنے مفادات تلاش کرتا ہے اور وہ ہر اس شخص کا مخالف ہے جو کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں امن و استحکام قائم ہونے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
پاکستانی آرمی چیف نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ جاری مذاکرات جلد ایسے مثبت نتائج تک پہنچیں گے جو ایران، خطے کے ممالک اور پوری مسلم دنیا کے مفاد میں ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ